11 اشعار

اعتذار

Eitezar

اعتذار

«اعتذار» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

تم سمجھتی ہو یہ گلدان میں ہنستے ہوئے پھولمیری افسردگئ دل کو مٹا ہی دیں گے

یہ حسیں پھول کہ ہیں جان‌‌ گلستان بہارمیرے سوئے ہوئے نغموں کو جگا ہی دیں گے

تم نے دیکھی ہیں دمکتی ہوئی شمعیں لیکنتم نے دیکھے نہیں بجھتے ہوئے دیپک ہمدم

وہی دیپک جو نگاہوں کا سہارا پا کرایک لمحے کے لئے جلتے ہیں بجھ جاتے ہیں

کبھی اک اشک سے دھل جاتے ہیں صدیوں کے غبارکائنات اور نکھر اور سنور جاتی ہے

کبھی ناکام تمنا کی صدائے مبہمقہقہہ بن کے فضاؤں میں بکھر جاتی ہے

ٹوٹتے تاروں کے سنگیت سنے ہیں تم نےوہ بھی نغمے ہیں جو ہونٹوں سے گریزاں ہی رہے

پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھے ہیں فضاؤں میں کبھیوہ فسانے جو نگاہوں سے بیاں ہو نہ سکے

کبھی کانٹوں سے بہل جاتی ہے روح غمگیںاور معصوم شگوفوں کی رسیلی خوشبو

نیشتر بن کے رگ جاں میں اتر جاتی ہےہاں یہی پھول یہی جان گلستان بہار

ناگ بن کر کبھی احساس کو ڈس لیتے ہیں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں