16 اشعار

نقش بر آب

Naqsh bar aab

نقش بر آب

«نقش بر آب» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

سال ہا سال محبت جو بُنا کرتی ہےرشتۂ قلب و نظر پیلۂ ریشم کی طرح

ایک جھونکا بھی حوادث کا اسے کافی ہےپہلوئے گُل میں دھڑکتی ہوئی شبنم کی طرح

یہ محبت کے بنائے ہوئے ایوان بلندایک ٹھوکر بھی زمانے کی نہیں سہہ سکتے

آبگینے یہ بہت نازک و نارستہ ہیںموج کی گود میں تادیر نہیں رہ سکتے

گرم رفتار سبک سیر کے رہوارِ حیاتآرزوؤں کے گھروندے کو یہ ڈھا دے نہ کہیں

تلخ تر جام کے ہاتھوں میں نظامِ نو کےخوابِ نوشیں کی حلاوت کو مٹادے نہ کہیں

عشق کے ہاتھ میں روشن ہے جو ننھا سا دیاعقل کی تند ہوا اس کو بجھا ہی دے گی

تو نے دیکھی ہی نہیں پنجۂ عسرت کی گرفتروح کو قیدِ تمنا سے چھڑا ہی دے گی

گل ہی جائے گی کسی روز جنوں کی زنجیروقت ہر خواب کی تعبیر بتا دیتا ہے

کروٹیں لیتا ہے احساس جو بیداری کالوریاں دے کے امنگوں کو سلا دیتا ہے

نقش بر آب ہے وابستگیٔ حسن و شبابنکہتِ گل کی طرح عشق ہے پابندِ ہوا

اس سے بہتر تھا کہ مجھ سے تجھے نفرت ہوتیپھول مرجھاتے ہیں کانٹا نہیں مرجھا سکتا

تیر نفرت کا رہا کرتا ہے دل میں پیوستشمع یہ تیرگیٔ غم میں تابندہ رہے

دستِ نفرت کی بنائی ہوئی دیوار اداؔسنگ و آہن کی طرح پختہ و پائندہ رہے

عزم ہوجائیں گے افسردہ، ارادے مفلوجگوش لذتِ کشِ گلبانگِ جلاجل کیوں ہو

منزلیں اور بھی کتنی ہیں محبت کے سواروحِ آزاد گرفتارِ سلاسل کیوں ہو!

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں