7 اشعار

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر

Aisa bhi nahin us se mila de koi aa kar

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر

«ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کرکیسا ہے وہ اتنا تو بتا دے کوئی آ کر

یہ بھی تو کسی ماں کا دلارا کوئی ہوگااس قبر پہ بھی پھول چڑھا دے کوئی آ کر

سوکھی ہیں بڑی دیر سے پلکوں کی زبانیںبس آج تو جی بھر کے رلا دے کوئی آ کر

برسوں کی دعا پھر نہ کہیں خاک میں مل جائےیہ ابر بھی آندھی نہ اڑا دے کوئی آ کر

یہ کوہ یہ سبزہ یہ مچلتی ہوئی ندیاںمر جاؤں جو منزل کا پتا دے کوئی آ کر

ہر گھر پہ ہے آواز ہر اک در پہ ہے دستکبیٹھا ہوں کہ مجھ کو بھی صدا دے کوئی آ کر

اس خواہش ناکام کا خوں بھی مرے سر ہےزندہ ہوں کہ اس کی بھی سزا دے کوئی آ کر

— عدیم ہاشمی