8 اشعار

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

Shaamil tha ye sitam bhi kisi ke nisaab mein

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

«شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میںتتلی ملی حنوط پرانی کتاب میں

دیکھوں گا کس طرح سے کسی کو عذاب میںسب کے گناہ ڈال دے میرے حساب میں

پھر بے وفا کو بحر محبت سمجھ لیاپھر دل کی ناؤ ڈوب گئی ہے سراب میں

پہلے گلاب اس میں دکھائی دیا مجھےاب وہ مجھے دکھائی دیا ہے گلاب میں

وہ رنگ آتشیں وہ دہکتا ہوا شبابچہرے نے جیسے آگ لگا دی نقاب میں

بارش نے اپنا عکس کہیں دیکھنا نہ ہوکیوں آئنے ابھرنے لگے ہیں حباب میں

گردش کی تیزیوں نے اسے نور کر دیامٹی چمک رہی ہے یہی آفتاب میں

اس سنگ دل کو میں نے پکارا تو تھا عدیمؔاپنی صدا ہی لوٹ کر آئی جواب میں

— عدیم ہاشمی