10 اشعار

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے

Koi patthar koi gauhar kyun hai

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے

«کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہےفرق لوگوں میں اس قدر کیوں ہے

تو ملا ہے تو یہ خیال آیازندگی اتنی مختصر کیوں ہے

جب تجھے لوٹ کر نہیں آنامنتظر میری چشم تر کیوں ہے

اس کی آنکھیں کہیں صدف تو نہیںاس کا ہر اشک ہی گہر کیوں ہے

رات پہلے ہی کیوں نہیں ڈھلتیتیرگی شب کی تا سحر کیوں ہے

یہ بھی کیسا عذاب دے ڈالاہے محبت تو اس قدر کیوں ہے

تو نہیں ہے تو روز و شب کیسےشام کیوں آ گئی سحر کیوں ہے

کیوں روانہ ہے ہر گھڑی دنیازندگی مستقل سفر کیوں ہے

میں تو اک مستقل مسافر ہوںتو بھلا میرا ہم سفر کیوں ہے

تجھے ملنا نہیں کسی سے عدیمؔپھر بچھڑنے کا تجھ کو ڈر کیوں ہے

— عدیم ہاشمی