8 اشعار

اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا

Ek pal baghair dekhe use kya guzar gaya

اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا

«اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیاایسے لگا کہ ایک زمانہ گزر گیا

سب کے لیے بلند رہے ہاتھ عمر بھراپنے لیے دعاؤں کا لمحہ گزر گیا

کوئی ہجوم دہر میں کرتا رہا تلاشکوئی رہ حیات سے تنہا گزر گیا

ملنا تو خیر اس کو نصیبوں کی بات ہےدیکھے ہوئے بھی اس کو زمانہ گزر گیا

دل یوں کٹا ہوا ہے کسی کی جدائی میںجیسے کسی زمین سے دریا گزر گیا

اس بات کا ملال بہت ہے مجھے عدیمؔوہ میرے سامنے سے اکیلا گزر گیا

ہم دیکھنے کا ڈھنگ سمجھتے رہے عدیمؔاتنے میں زندگی کا تماشا گزر گیا

باقی بس ایک نام خدا رہ گیا عدیمؔسب کچھ بہا کے وقت کا دریا گزر گیا

— عدیم ہاشمی