9 اشعار

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

Tamaam umr ki tanhaai ki saza de kar

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

«تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کرتڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر

میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہتاسے سکوں تو ملا مجھ کو بد دعا دے کر

میں اس کے واسطے سورج تلاش کرتا ہوںجو سو گیا مری آنکھوں کو رت جگا دے کر

وہ رات رات کا مہماں تو عمر بھر کے لیےچلا گیا مجھے یادوں کا سلسلہ دے کر

جو وا کیا بھی دریچہ تو آج موسم نےپہاڑ ڈھانپ دیا ابر کی ردا دے کر

کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تکملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر

چٹخ چٹخ کے جلی شاخ شاخ جنگل کیبہت شرار ملا آگ کو ہوا دے کر

پھر اس کے بعد پہاڑ اس کو خود پکاریں گےتو لوٹ آ اسے وادی میں اک صدا دے کر

ستون ریگ نہ ٹھہرا عدیمؔ چھت کے تلےمیں ڈھ گیا ہوں خود اپنے کو آسرا دے کر

— عدیم ہاشمی