8 اشعار

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے

Dard hote hain kai dil mein chhupane ke liye

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے

«درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 9 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیےسب کے سب آنسو نہیں ہوتے بہانے کے لیے

عمر تنہا کاٹ دی وعدہ نبھانے کے لیےعہد باندھا تھا کسی نے آزمانے کے لیے

یہ قفس ہے گھر کی زیبائش بڑھانے کے لیےیہ پرندے تو نہیں ہیں آشیانے کے لیے

کچھ دیے دیوار پر رکھنے ہیں وقت انتظارکچھ دیے لایا ہوں پلکوں پر جلانے کے لیے

وہ بظاہر تو ملا تھا ایک لمحے کو عدیمؔعمر ساری چاہئے اس کو بھلانے کے لیے

لوگ زیر خاک بھی تو ڈوب جاتے ہیں عدیمؔاک سمندر ہی نہیں ہے ڈوب جانے کے لیے

تو پس خندہ لبی آہوں کی آوازیں تو سنیہ ہنسی تو آئی ہے آنسو چھپانے کے لیے

کوئی غم ہو کوئی دکھ ہو درد کوئی ہو عدیمؔمسکرانا پڑ ہی جاتا ہے زمانے کے لیے

— عدیم ہاشمی