آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
کلام: اعتبارساجد
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے
پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھےرگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے
پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھےرگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے
ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے
شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہویونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے