6 اشعار

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

Tumhein khayaal-e-zaat hai shaoor-e-zaat hi nahin

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

«تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں

غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کیہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں

ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیںہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں

ورق ورق پہ ڈائری میں آنسوؤں کا نم بھی ہےیہ صرف بارشوں سے بھیگے کاغذات ہی نہیں

کہانیوں کا روپ دے کے ہم جنہیں سنا سکیںہماری زندگی میں ایسے واقعات ہی نہیں

کسی کا نام آ گیا تھا یوں ہی درمیان میںاب اس کا ذکر کیا کریں جب ایسی بات ہی نہیں

— اعتبارساجد