7 اشعار

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

Ye kya haalat bana rakhi hai ye aasaar kaise hain

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

«یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیںبہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے

وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پرمیں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں

مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہےجو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں

مرے دل کا الاو آج تک دیکھا نہیں جس نےوہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں

یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میںمرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں

ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتےمحبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں

جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہےمزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں