اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
کلام: اکبر اللہ آبادی
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے
ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیطآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے
ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیطآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی
طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حورجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی