خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوں
کلام: اکبر اللہ آبادی
خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوںازل سے کشتہِ تیغِ نگاہِ نازِ قاتل ہوں
دلا کیوں کر میں اس رخسار روشن کے مقابل ہوںجسے خورشید محشر دیکھ کر کہتا ہے میں تل ہوں