10 اشعار

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

Aarzoo-e-vasl ki rakhti hai pareshan kya kya

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

«آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا

غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھیدیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا

ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سوناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا

دشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کراے وطن تیرے گل و سنبل و ریحاں کیا کیا

اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیںمحفلیں خواب کی صورت ہوئیں ویراں کیا کیا

ہے بہار گل و لالہ مرے اشکوں کی نمودمیری آنکھوں نے کھلائے ہیں گلستاں کیا کیا

ہے کرم ان کے ستم کا کہ کرم بھی ہے ستمشکوے سن سن کے وہ ہوتے ہیں پشیماں کیا کیا

گیسو بکھرے ہیں مرے دوش پہ کیسے کیسےمیری آنکھوں میں ہیں آباد شبستاں کیا کیا

وقت امداد ہے اے ہمت گستاخی شوقشوق انگیز ہیں ان کے لب خنداں کیا کیا

سیر گل بھی ہے ہمیں باعث وحشت اخترؔان کی الفت میں ہوئے چاک گریباں کیا کیا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں