9 اشعار

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے

Na bhool kar bhi tamanna-e-rang o bu karte

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے

«نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتےچمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتے

جناب شیخ پہنچ جاتے حوض کوثر تکاگر شراب سے مے خانے میں وضو کرتے

مسرت آہ تو بستی ہے کن ستاروں میںزمیں پہ عمر ہوئی تیری جستجو کرتے

ایاغ بادہ میں آ کر وہ خود چھلک پڑتاگر اس کے مست ذرا اور ہاؤ ہو کرتے

انہیں مفر نہ تھا اقرار عشق سے لیکنحیا کو ضد تھی کہ وہ پاس آبرو کرتے

پکار اٹھتا وہ آ کر دلوں کی دھڑکن میںہم اپنے سینے میں گر اس کی جستجو کرتے

غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہیہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے

گراں تھا ساقی دوراں پہ ایک ساغر بھیتو کس امید پہ ہم خواہش سبو کرتے

جنون عشق کی تاثیر تو یہ تھی اخترؔکہ ہم نہیں وہ خود اظہار آرزو کرتے

— اختر شیرانی