8 اشعار

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

Aashna ho kar taghaful-aashna kyon ho gaye

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

«آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئےباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئے

اور بھی رہتے ابھی کچھ دن نظر کے سامنےدیکھتے ہی دیکھتے ہم سے خفا کیوں ہو گئے

ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہواوہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے

کس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کواس طرح پردیس جا کر بے وفا کیوں ہو گئے

تم تو کہتے تھے کہ ہم تجھ کو نہ بھولیں گے کبھیبھول کر ہم کو تغافل آشنا کیوں ہو گئے

ہم تمہارا درد دل سن سن کے ہنستے تھے کبھیآج روتے ہیں کہ یوں درد آشنا کیوں ہو گئے

چاند کے ٹکڑے بھی نظروں میں سما سکتے نہیںکیا بتائیں ہم ترے در کے گدا کیوں ہو گئے

یہ جوانی یہ گھٹائیں یہ ہوائیں یہ بہارحضرت اخترؔ ابھی سے پارسا کیوں ہو گئے

— اختر شیرانی