8 اشعار

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں

Tamannaon ko zinda aarzuon ko jawan kar loon

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں

«تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوںیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں

بہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سےکہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں

ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میںحیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں

کوئی صورت تو ہو دنیائے فانی میں بہلنے کیٹھہر جا اے جوانی ماتم عمر رواں کر لوں

چمن میں ہیں بہم پروانہ و شمع و گل و بلبلاجازت ہو تو میں بھی حال دل اپنا بیاں کر لوں

کسے معلوم کب کس وقت کس پر گر پڑے بجلیابھی سے میں چمن میں چل کر آباد آشیاں کر لوں

بر آئیں حسرتیں کیا کیا اگر موت اتنی فرصت دےکہ اک بار اور زندہ شیوۂ عشق جواں کر لوں

مجھے دونوں جہاں میں ایک وہ مل جائیں گر اخترؔتو اپنی حسرتوں کو بے نیاز دو جہاں کر لوں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں