5 اشعار

اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں

Agar aye naseem-e-sehar tera ho guzar diyar-e-hijaz mein

اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں

«اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میںمری چشم تر کا سلام کہنا حضور بندہ نواز میں

تمہیں حد عقل نہ پا سکی فقط اتنا حال بتا سکیکہ تم ایک جلوۂ‌ راز تھے جو عیاں تھا رنگ حجاز میں

عجب اک سرور سا چھا گیا میری روح و دل میں سما گیاترا نام ناز سے آ گیا مرے لب پہ جب بھی نماز میں

نہ جہاں میں راحت جاں ملی نہ متاع امن و اماں ملیجو دوائے‌ درد نہاں ملی تو ملی بہشت حجاز میں

کروں نذر نغمۂ جاں فزا میں کہاں سے اخترؔ غم نواکہ سوائے نالۂ غم نہیں مرے دل کے غم زدہ ساز میں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں