15 اشعار

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

Na tumhara husn jawan raha na hamara ishq jawan raha

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

«نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 41 سیکنڈ ہے۔

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہانہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا

نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیںنہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا

نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاںنہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ درد دل کا نشاں رہا

نہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہےیہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا

نہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیںنہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا

نہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادانہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا

یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجلوہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا

نہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دےابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا

کہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوںنفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا

اثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظرنہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا

میں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمومیں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا

نہ سکون دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماںیہ سرشک غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا

تو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثرمیں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محو فغاں رہا

نہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے ابنہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا

ہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کس سے اخترؔ نالہ گرکہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محو فغاں رہا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں