7 اشعار

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی

Ashk-bari na miti seena-figari na gayi

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی

«اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئیلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی

کوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراباپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی

ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصورناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی

چشم محزوں پہ نہ لہرائی وہ زلف شادابیہ پری ہم سے بھی شیشے میں اتاری نہ گئی

مدتیں ہو گئیں بچھڑے ہوئے تم سے لیکنآج تک دل سے مرے یاد تمہاری نہ گئی

شاد و خنداں رہے ہم یوں تو جہاں میں لیکناپنی فطرت سے کبھی درد شعاری نہ گئی

سیکڑوں بار مرے سامنے کی توبہ مگرتوبہ اخترؔ کہ تری بادہ گساری نہ گئی

— اختر شیرانی