9 اشعار

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

La pila saaqi sharaab-e-arghawani phir kahan

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

«لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاںزندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں

دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئےعمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں

آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیںاس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں

ہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگییہ زمانہ پھر کہاں یہ زندگانی پھر کہاں

ایک ہی بستی میں ہیں آساں ہے ملنا آ ملوکیا خبر لے جائے دور آسمانی پھر کہاں

فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہےیہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھر کہاں

پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چنموسم گل پھر کہاں فصل جوانی پھر کہاں

آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج توتم سے ملنے دے گا دور آسمانی پھر کہاں

آج آئے ہو تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزلورنہ اخترؔ پھر کہاں یہ شعر خوانی پھر کہاں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں