15 اشعار

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

Meri aankhon se zaahir khoon fishaani ab bhi hoti hai

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

«مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہےنگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے

سرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہےمرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے

کوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تکسواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے

وہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ کر آ ہی جاتے ہیںمرے خوابوں پر ان کی مہربانی اب بھی ہوتی ہے

کہیں سے ہاتھ آ جائے تو ہم کو بھی کوئی لا دےسنا ہے اس جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے

ہلال و بدر کے نقشے سبق دیتے ہیں انساں کوکہ ناکامی بنائے کامرانی اب بھی ہوتی ہے

کہیں اغیار کے خوابوں میں چھپ چھپ کر نہ جاتے ہوںوہ پہلو میں ہیں لیکن بدگمانی اب بھی ہوتی ہے

سمجھتا ہے شکست توبہ اشک توبہ کو زاہدمری آنکھوں کی رنگت ارغوانی اب بھی ہوتی ہے

وہ برساتیں وہ باتیں وہ ملاقاتیں کہاں ہمدموطن کی رات ہونے کو سہانی اب بھی ہوتی ہے

خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میںہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے

زباں ہی میں نہ ہو تاثیر تو میں کیا کروں ناصحتری باتوں سے پیدا سرگرانی اب بھی ہوتی ہے

تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں میں اک رات گزری تھیستاروں کی زباں پر یہ کہانی اب بھی ہوتی ہے

پس توبہ بھی پی لیتے ہیں جام غنچہ و گل سےبہاروں میں جنوں کی مہمانی اب بھی ہوتی ہے

کوئی خوش ہو مری مایوسیاں فریاد کرتی ہیںالٰہی کیا جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے

بتوں کو کر دیا تھا جس نے مجبور سخن اخترؔلبوں پر وہ نوائے آسمانی اب بھی ہوتی ہے

— اختر شیرانی