131 اشعار

او دیس سے آنے والے بتا

O des se aane wale bata

او دیس سے آنے والے بتا

«او دیس سے آنے والے بتا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

او دیس سے آنے والا ہے بتااو دیس سے آنے والے بتا

کس حال میں ہیں یاران وطنآوارۂ غربت کو بھی سنا

کس رنگ میں ہے کنعان وطنوہ باغ وطن فردوس وطن

وہ سرو وطن ریحان وطناو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں کے باغوں میں

مستانہ ہوائیں آتی ہیںکیا اب بھی وہاں کے پربت پر

گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیںکیا اب بھی وہاں کی برکھائیں

ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وطن میں ویسے ہی

سرمست نظارے ہوتے ہیںکیا اب بھی سہانی راتوں کو

وہ چاند ستارے ہوتے ہیںہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے

کیا اب وہی سارے ہوتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی شفق کے سایوں میں

دن رات کے دامن ملتے ہیںکیا اب بھی چمن میں ویسے ہی

خوش رنگ شگوفے کھلتے ہیںبرساتی ہوا کی لہروں سے

بھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاشاداب و شگفتہ پھولوں سے

معمور ہیں گل زار اب کہ نہیںبازار میں مالن لاتی ہے

پھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیںاور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں

نوعمر خریدار اب کہ نہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا شام پڑے گلیوں میں وہی

دلچسپ اندھیرا ہوتا ہےاور سڑکوں کی دھندلی شمعوں پر

سایوں کا بسیرا ہوتا ہےباغوں کی گھنیری شاخوں میں

جس طرح سویرا ہوتا ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں

اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیںکیا رات بھر اب بھی گیتوں کی

اور پیار کی باتیں ہوتی ہیںوہ حسن کے جادو چلتے ہیں

وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتامیرانیوں کے آغوش میں ہے

آباد وہ بازار اب کہ نہیںتلواریں بغل میں دابے ہوئے

پھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیںاور بہلیوں میں سے جھانکتے ہیں

ترکان سیہ کار اب کہ نہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی مہکتے مندر سے

ناقوس کی آواز آتی ہےکیا اب بھی مقدس مسجد پر

مستانہ اذاں تھراتی ہےاور شام کے رنگیں سایوں پر

عظمت کی جھلک چھا جاتی ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والا بتاکیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر

پنہاریاں پانی بھرتی ہیںانگڑائی کا نقشہ بن بن کر

سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیںاور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے

ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتابرسات کے موسم اب بھی وہاں

ویسے ہی سہانے ہوتے ہیںکیا اب بھی وہاں کے باغوں میں

جھولے اور گانے ہوتے ہیںاور دور کہیں کچھ دیکھتے ہی

نوعمر دیوانے ہوتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر

برسات کے بادل چھاتے ہیںکیا اب بھی ہوائے ساحل کے

وہ رس بھرے جھونکے آتے ہیںاور سب سے اونچی ٹیکری پر

لوگ اب بھی ترانے گاتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں

گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیںساحل کے گھنیرے پیڑوں میں

برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیںجھینگر کے ترانے جاگتے ہیں

موروں کی صدائیں گونجتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی

برسات کا جوبن ہوتا ہےپھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں

جھولوں کا نشیمن ہوتا ہےامڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں

چھایا ہوا ساون ہوتا ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواں

دریائے حسیں لہرائے ہوئےجوں گود میں اپنے من کو لیے

ناگن ہو کوئی تھرائے ہوئےیا نور کی ہنسلی حور کی گردن

میں ہو عیاں بل کھائے ہوئےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی فضا کے دامن میں

برکھا کے سمے لہراتے ہیںکیا اب بھی کنار دریا پر

طوفان کے جھونکے آتے ہیںکیا اب بھی اندھیری راتوں میں

ملاح ترانے گاتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں برسات کے دن

باغوں میں بہاریں آتی ہیںمعصوم و حسیں دوشیزائیں

برکھا کے ترانے گاتی ہیںاور تیتریوں کی طرح سے رنگیں

جھولوں پر لہراتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی افق کے سینے پر

شاداب گھٹائیں جھومتی ہیںدریا کے کنارے باغوں میں

مستانہ ہوائیں جھومتی ہیںاور ان کے نشیلے جھونکوں سے

خاموش فضائیں جھومتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا شام کو اب بھی جاتے ہیں

احباب کنار دریا پروہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں

شاداب کنار دریا پراور پیار سے آ کر جھانکتا ہے

مہتاب کنار دریا پراو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا آم کے اونچے پیڑوں پر

اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیںشاخوں کے حریری پردوں میں

نغموں کے خزانے گھولتے ہیںساون کے رسیلے گیتوں سے

تالاب میں امرس گھولتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا پہلی سی ہے معصوم ابھی

وہ مدرسے کی شاداب فضاکچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں

جس میں وہ مثال خواب فضاوہ کھیل وہ ہم سن وہ میداں

وہ خواب گہہ مہتاب فضااو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی کسی کے سینے میں

باقی ہے ہماری چاہ بتاکیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے

اب یاروں میں کوئی آہ بتااو دیس سے آنے والے بتا

للہ بتا للہ بتااو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا ہم کو وطن کے باغوں کی

مستانہ فضائیں بھول گئیںبرکھا کی بہاریں بھول گئیں

ساون کی گھٹائیں بھول گئیںدریا کے کنارے بھول گئے

جنگل کی ہوائیں بھول گئیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا گاؤں میں اب بھی ویسی ہی

مستی بھری راتیں آتی ہیںدیہات کی کمسن ماہ وشیں

تالاب کی جانب جاتی ہیںاور چاند کی سادہ روشنی میں

رنگین ترانے گاتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی گجردم چرواہے

ریوڑ کو چرانے جاتے ہیںاور شام کے دھندلے سایوں کے

ہم راہ گھروں کو آتے ہیںاور اپنی رسیلی بانسریوں

میں عشق کے نغمے گاتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں

برکھا کی بہاریں چھاتی ہیںمعصوم گھروں سے بھور بھئے

چکی کی صدائیں آتی ہیںاور یاد میں اپنے میکے کی

بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتادریا کا وہ خواب آلودہ سا گھاٹ

اور اس کی فضائیں کیسی ہیںوہ گاؤں وہ منظر وہ تالاب

اور اس کی ہوائیں کیسی ہیںوہ کھیت وہ جنگل وہ چڑیاں

اور ان کی صدائیں کیسی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر

تاریخ کی عبرت طاری ہےان پورنا کے اجڑے مندر پر

مایوسی و حسرت طاری ہےسنسان گھروں پر چھاؤنی کے

ویرانی و رقت طاری ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاآخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا

وہ غارت ایماں کیسی ہےبچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی

وہ آفت دوراں کیسی ہےہم دونوں تھے جس کے پروانے

وہ شمع شبستاں کیسی ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتامرجانا تھا جس کا نام بتا

وہ غنچہ دہن کس حال میں ہےجس پر تھے فدا طفلان وطن

وہ جان وطن کس حال میں ہےوہ سرو چمن وہ رشک سمن

وہ سیم بدن کس حال میں ہےاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی رخ گلرنگ پہ وہ

جنت کے نظارے روشن ہیںکیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں

ساون کے ستارے روشن ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی شہابی عارض پر

گیسوئے سیہ بل کھاتے ہیںیا بحر شفق کی موجوں پر

دو ناگ پڑے لہراتے ہیںاور جن کی جھلک سے ساون کی

راتوں کے سپنے آتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتااب نام خدا ہوگی وہ جواں

میکے میں ہے یا سسرال گئیدوشیزہ ہے یا آفت میں اسے

کمبخت جوانی ڈال گئیگھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی

خوش حال رہی خوش حال گئیاو دیس سے آنے والے بتا

— اختر شیرانی