45 اشعار

اے عشق کہیں لے چل

Aye Ishq Kahin Le Chal

اے عشق کہیں لے چل

«اے عشق کہیں لے چل» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سےنفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سے

ان نفس پرستوں سے اس نفس پرستی سےدور اور کہیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!ہم پریم پجاری ہیں تو پریم کنہیا ہے

تو پریم کنہیا ہے یہ پریم کی نیا ہےیہ پریم کی نیا ہے تو اس کا کھویا ہے

کچھ فکر نہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

بے رحم زمانے کو اب چھوڑ رہے ہیں ہمبے درد عزیزوں سے منہ موڑ رہے ہیں ہم

جو آس کہ تھی وہ بھی اب توڑ رہے ہیں ہمبس تاب نہیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے

ارمانوں کا قاتل ہے امیدوں کا رہزن ہےجذبات کا مقتل ہے جذبات کا مدفن ہے

چل یاں سے کہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

آپس میں چھل اور دھوکے سنسار کی ریتیں ہیںاس پاپ کی نگری میں اجڑی ہوئی پرتیں ہیں

یاں نیائے کی ہاریں ہیں انیائے کی جیتیں ہیںسکھ چین نہیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!اک مذبح جذبات و افکار ہے یہ دنیا

اک مسکن اشرار و آزار ہے یہ دنیااک مقتل احرار و ابرار ہے یہ دنیا

دور اس سے کہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

یہ درد بھری دنیا بستی ہے گناہوں کیدل چاک امیدوں کی سفاک نگاہوں کی

ظلموں کی جفاؤں کی آہوں کی کراہوں کیہیں غم سے حزیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!آنکھوں میں سمائی ہے اک خواب نما دنیا

تاروں کی طرح روشن مہتاب نما دیاجنت کی طرح رنگیں شاداب نما دنیا

للّٰلہ وہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

وہ تیر ہو ساگر کی رت چھائی ہو پھاگن کیپھولوں سے مہکتی ہو پروائی گھنے بن کی

یا آٹھ پہر جس میں جھڑ بدلی ہو ساون کیجی بس میں نہیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!قدرت ہو حمایت پر ہمدرد ہو قسمت بھی

سلمیٰؔ بھی ہو پہلو میں سلمیٰؔ کی محبت بھیہر شے سے فراغت ہو اور تیری عنایت بھی

اے طفل حسیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

اے عشق ہمیں لے چل اک نور کی وادی میںاک خواب کی دنیا میں اک طور کی وادی میں

حوروں کے خیالات مسرور کی وادی میںتا خلد بریں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو

جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہواور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو

یوں ہو تو وہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

مغرب کی ہواؤں سے آواز سی آتی ہےاور ہم کو سمندر کے اس پار بلاتی ہے

شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہےچل اس کے قریں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!اک ایسی فضا جس تک غم کی نہ رسائی ہو

دنیا کی ہوا جس میں صدیوں سے نہ آئی ہواے عشق جہاں تو ہو اور تیری خدائی ہو

اے عشق وہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

ایک ایسی جگہ جس میں انسان نہ بستے ہوںیہ مکر و جفا پیشہ حیوان نہ بستے ہوں

انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوںتو خوف نہیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!برسات کی متوالی گھنگھور گھٹاؤں میں

کہسار کے دامن کی مستانہ ہواؤں میںیا چاندنی راتوں کی شفاف فضاؤں میں

اے زہرہ جبیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

ان چاند ستاروں کے بکھرے ہوئے شہروں میںان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں

ٹھہری ہوئی نہروں میں سوئی ہوئی لہروں میںاے خضر حسیں لے چل!

اے عشق کہیں لے چل!اک ایسی بہشت آئیں وادی میں پہنچ جائیں

جس میں کبھی دنیا کے غم دل کو نہ تڑپائیںاور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں

لے چل تو وہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!

— اختر شیرانی