53 اشعار

بدنام ہو رہا ہوں

Badnaam Ho Raha Hoon

بدنام ہو رہا ہوں

«بدنام ہو رہا ہوں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوں

سرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوںبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

بد نام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کر

اس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کرہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کر

بیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کرہر چیز کو بھلا کر

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

کہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورتسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورت

اور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورتمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورت

سنولا گئی ہے صورتسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کر

گاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کریہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کر

سلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کرہم نے نظر بچا کر

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

راتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سبتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سب

جنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سبتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سب

اور ہنستی جاتی ہیں سبسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کو

تب راستے میں باہم وہ میری داستاں کودہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کو

اور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کوکہ چھیڑے اس بیاں کو

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

کہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعتیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورت

آنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگتدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالت

اللہ تیری قدرتسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوں

بستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوںہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوں

دیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوںدیوانہ بن گیا ہوں

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

ان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیںکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیں

کمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیںکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیں

کیوں خوں فشانیاں ہیںسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہے

بے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہےدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہے

کس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہےناچار ہو رہا ہے

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہوکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہو

کیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہودیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہو

با حال زار کیوں ہوسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحرا

کھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرابجلی کی روشنی کو جیسے میان صحرا

تاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحراحیرت کشان صحرا

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کردیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کر

شرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کرجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کر

کھیتوں میں چھپ چھپا کرسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیں

سلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیںان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیں

القصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیںشوق آفریں نگاہیں

سلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

اک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کرسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کر

یہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کرتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کر

یہ گیت اسے سنا کرسلمیٰ سے دل لگا کر

بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں

— اختر شیرانی