44 اشعار

جہاں ریحانہؔ رہتی تھی

Jahan Raihana rehti thi

جہاں ریحانہؔ رہتی تھی

«جہاں ریحانہؔ رہتی تھی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیوہ اس وادی کی شہزادی تھی اور شاہانہ رہتی تھی

کنول کا پھول تھی سنسار سے بیگانہ رہتی تھینظر سے دور مثل نکہت مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہ رہتی تھیانہی صحراؤں میں وہ اپنے گلے کو چراتی تھی

انہیں چشموں پہ وہ ہر روز منہ دھونے کو آتی تھیانہی ٹیلوں کے دامن میں وہ آزادانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیکھجوروں کے تلے وہ جو کھنڈر سے جھلملاتے ہیں

یہ سب ریحانہؔ کے معصوم افسانے سناتے ہیںوہ ان کھنڈروں میں اک دن صورت افسانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیمرے ہم دم یہ نخلستان اک دن اس کا مسکن تھا

اسی کے خرمئی آغوش میں اس کا نشیمن تھااسی شاداب وادی میں وہ بے باکانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھییہ پھولوں کی حسیں آبادیاں کاشانہ تھیں اس کا

وہ اک بت تھی یہ ساری وادیاں بت خانہ تھیں اس کاوہ اس فردوس وجد و رقص میں مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیتباہی کی ہوا اس خاک رنگیں تک نہ آئی تھی

یہ وہ خطہ تھا جس میں نو بہاروں کی خدائی تھیوہ اس خطے میں مثل سبزۂ بیگانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیاسی ویرانہ میں اک دن بہشتیں لہلہاتی تھیں

گھٹائیں گھر کے آتی تھیں ہوائیں مسکراتی تھیںکہ وہ بن کر بہار جنت ویرانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھییہ ویرانہ گزر جس میں نہیں ہے کاروانوں کا

جہاں ملتا نہیں نام و نشاں تک ساربانوں کااسی ویرانے میں اک دن مری ریحانہؔ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھییہیں آباد تھی اک دن مرے افکار کی ملکہ

مرے جذبات کی دیوی مرے اشعار کی ملکہوہ ملکہ جو برنگ عظمت شاہانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہ رہتی تھیصبا شاخوں میں نخلستاں کی جس دم سرسراتی ہے

مجھے ہر لہر سے ریحانہؔ کی آواز آتی ہےیہیں ریحانہؔ رہتی ہے یہیں ریحانہؔ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیفضائیں گونجتی ہیں اب بھی ان وحشی ترانوں سے

سنو آواز سی آتی ہے ان خاکی چٹانوں سےکہ جن میں وہ برنگ نغمۂ بیگانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیمرے ہم دم جنون شوق کا اظہار کرنے دے

مجھے اس دشت کی اک اک کلی سے پیار کرنے دےجہاں اک دن وہ مثل غنچۂ مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیبہ رب کعبہ اس کی یاد میں عمریں گنوا دوں گا

میں اس وادی کے ذرے ذرے پر سجدے بچھا دوں گاجہاں وہ جان کعبہ عظمت بت خانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیوہ اس ٹیلے پر اکثر عاشقانہ گیت گاتی تھی

پرانے سورماؤں کے فسانے گنگناتی تھییہیں پر منتظر میری وہ بیتابانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیکھجوروں کے حسیں سائے زمیں پر لہلہاتے تھے

ستارے جگمگاتے تھے شگوفے کھلکھلاتے تھےفضائیں منتشر اک نکہت مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھییہیں بستی تھی اے ہم دم مرے رومان کی بستی

مرے افسانوں کی دنیا مرے وجدان کی بستییہیں ریحانہؔ بستی تھی یہیں ریحانہؔ بستی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیشمیم زلف سے اس کی مہک جاتی تھی کل وادی

نگاہ مست سے اس کی بہک جاتی تھی کل وادیہوائیں پرفشاں روح مے و مے خانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیوہ گیسوئے پریشاں یا گھٹائیں رقص کرتی تھیں

فضائیں وجد کرتی تھیں ہوائیں رقص کرتی تھیںوہ اس فردوس وجد و رقص میں مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیگداز عشق سے لبریز تھا قلب حزیں اس کا

مگر آئینہ دار شرم تھا روئے حسیں اس کاخموشی میں چھپائے نغمۂ مستانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیاسے پھولوں نے میری یاد میں بیتاب دیکھا ہے

ستاروں کی نظر نے رات بھر بے خواب دیکھا ہےوہ شمع حسن تھی پر صورت پروانہ رہتی تھی

یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھییہیں ہم رنگ گلہائے حسیں رہتی تھی ریحانہؔ

مثال حور فردوس بریں رہتی تھی ریحانہؔیہیں ریحانہؔ رہتی تھی یہیں ریحانہؔ رہتی تھی

یہیں وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھیپیام درد دل اخترؔ دیئے جاتا ہوں وادی کو

سلام رخصت غمگیں کئے جاتا ہوں وادی کوسلام اے وادئ ویراں جہاں ریحانہؔ رہتی تھی

— اختر شیرانی