6 اشعار

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

Bahaar aayi hai mastana ghata kuch aur kehti hai

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

«بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہےمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہے

رہائی کی خبر کس نے اڑائی صحن گلشن میںاسیران قفس سے تو صبا کچھ اور کہتی ہے

بہت خوش ہے دل ناداں ہوائے کوے جاناں میںمگر ہم سے زمانے کی ہوا کچھ اور کہتی ہے

تو میرے دل کی سن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کچھتری نیچی نظر تو جانے کیا کچھ اور کہتی ہے

مری جانب سے کہہ دینا صبا لاہور والوں سےکہ اس موسم میں دہلی کی ہوا کچھ اور کہتی ہے

ہوئی مدت کے مے نوشی سے توبہ کر چکے اخترؔمگر دہلی کی مستانہ فضا کچھ اور کہتی ہے

— اختر شیرانی