10 اشعار

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

Sue-e-Kalkatta jo hum ba-dil-e-deewana chale

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

«سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلےگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے

شہر سلمیٰ ہے سر راہ گھٹائیں ہم راہساقیا آج تو دور مے و پیمانہ چلے

اس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادلساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے

شہر جاناں میں اترنے کی تھی ہم پر قدغنیوں چلے جیسے کوئی شہر سے بیگانہ چلے

گرچہ تنہا تھے مگر ان کے تصور کے نثاراپنے ہمراہ لیے ایک پری خانہ چلے

کھیل امید کے دیکھو کہ نہ کی ان کو خبرپھر بھی ہم منتظر جلوۂ جانانہ چلے

ان کا پیغام نہ لائے ہوں یہ رنگیں بادلورنہ کیوں ساتھ مرے بے خود و مستانہ چلے

گھر سے بہ عشرت شاہانہ ہم آئے تھے مگران کے کوچے سے چلے جب تو فقیرانہ چلے

بادلو خدمت سلمیٰ میں یہ کہہ دو جا کرکہ ترے شہر میں ہم آ کے غریبانہ چلے

حسرت و شوق کے عالم میں چلے یوں اخترؔمسکراتا ہوا جیسے کوئی دیوانہ چلے

— اختر شیرانی