9 اشعار

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

Umr bhar ki talkh bedari ka samaan ho gayin

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

«عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیںہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں

میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سےمیرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں

عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیںجس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں

دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیںآج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں

کچھ تجھے بھی ہے خبر او سونے والے ناز سےمیری راتیں لٹ گئیں نیندیں پریشاں ہو گئیں

ہائے وہ مایوسیوں میں میری امیدوں کا رنگجو ستاروں کی طرح اٹھ اٹھ کے پنہاں ہو گئیں

بس کرو او میری رونے والی آنکھوں بس کرواب تو اپنے ظلم پر وہ بھی پشیماں ہو گئیں

آہ وہ دن جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعدہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں

گلشن دل میں کہاں اخترؔ وہ رنگ نو بہارآرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں