6 اشعار

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں

Dil deewanah-o-andaaz bebaakana rakhte hain

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں

«دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیںگدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیں

مجھے مے خانہ تھراتا ہوا محسوس ہوتا ہےوہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں

گھٹائیں بھی تو بہکی جا رہی ہیں ان اداؤں پرچمن میں جو قدم رکھتے ہیں وہ مستانہ رکھتے ہیں

بظاہر ہم ہیں بلبل کی طرح مشہور ہرجائیمگر دل میں گداز فطرت پروانہ رکھتے ہیں

جوانی بھی تو اک موج شراب تند و رنگیں ہےبرا کیا ہے اگر ہم مشرب رندانہ رکھتے ہیں

کسی مغرور کے آگے ہمارا سر نہیں جھکتافقیری میں بھی اخترؔ غیرت شاہانہ رکھتے ہیں

— اختر شیرانی