26 اشعار

برکھا رت

Barkha Rut

برکھا رت

«برکھا رت» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

آسماں پر چھا رہا ہے ابر پاروں کا ہجوم!نو بہاروں کا ہجوم

آہ یہ رنگین آوارہ نظاروں کا ہجومکوہساروں کا ہجوم

بدلیاں ہیں یا کسی کے بھولے بسرے خواب ہیںبے خود و بیتاب ہیں!

یا ہوا پر تیرتا ہے رود باروں کا ہجومآبشاروں کا ہجوم

پھرتی ہیں آوارہ متوالی گھٹائیں اس طرحاور ہوائیں اس طرح

جھومتا پھرتا ہو جیسے مے گساروں کا ہجومبادہ خواروں کا ہجوم

وادیٔ گنگا ہے، برکھا رت ہے، کالی رات ہےرات ہے برسات ہے

اور فضا میں تیرنے والے نظاروں کا ہجومنشہ زاروں کا ہجوم

نیلگوں پریاں افق میں پر ہیں پھیلائے ہوئےبال بکھرائے ہوئے

یا امنڈ آیا ہے ساون کی بہاروں کا ہجومابر پاروں کا ہجوم

ننھی ننھی بوندیں گرتی ہیں حجاب ابر سےیا نقاب ابر سے

چھن رہا ہے قطرے بن بن کر ستاروں کا ہجومنور پاروں کا ہجوم

یہ گھٹائیں ہیں کہ خوابوں کے سفینے ہیں رواںبے قرینے ہیں رواں

بادبانوں میں چھپائے چشمہ ساروں کا ہجومجوے باروں کا ہجوم

بجلی ہے یا نور کی زنجیر لہرائی ہوئیپیچ و خم کھائی ہوئی

یا خمیدہ مرمریں پھولوں کے ہاروں کا ہجوماور ستاروں کا ہجوم

یہ سماں بجلی کا یہ مہتاب کی سی وادیاںخواب کی سی وادیاں

نشے میں بھیگا ہوا یہ سبزہ زاروں کا ہجومکوہساروں میں خوشی کی بستیاں آباد ہیں

مستیاں آباد ہیںچار سو بکھرا پڑا ہے سبزہ زاروں کا ہجوم

مرغزاروں کا ہجومیوں نظر آتے ہیں کہسار مسوری دور سے

مست سے مخمور سےجوں سمندر سے جزیروں کی قطاروں کا ہجوم

سبزہ زاروں کا ہجومیہ سفر، یہ رات، یہ برسات اور پھر ہم سفر

الامان و الحذرایک حسن یاسمیں رنگیں بہاروں کا ہجوم

ماہ پاروں کا ہجومیہ سہانے منظر اختر مدتوں یاد آئیں گے

مدتوں تڑپائیں گےآہ یہ رات، اف یہ مستانہ نظاروں کا ہجوم

یہ بہاروں کا ہجوم

— اختر شیرانی