26 اشعار

مجھے لے چل

Mujhe Le Chal

مجھے لے چل

«مجھے لے چل» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

مری سلمیٰؔ مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!جہاں رنگیں بہشتیں کھیلتی ہیں سبزہ زاروں میں!

جہاں حوروں کی زلفیں جھومتی ہیں شاخساروں میںجہاں پریوں کے نغمے گونجتے ہیں کوہساروں میں

جوانی کی بہاریں تیرتی ہیں آبشاروں میںمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں

وہ مستانہ بہاریں جن پہ قرباں ارض جنت ہےجہاں ہر ذرہ اک گہوارۂ موج لطافت ہے

جہاں رنگت ہی رنگت ہے جہاں نکہت ہی نکہت ہےمحبت حکمراں ہے جن کے پاکیزہ دیاروں میں!

مری سلمیٰؔ مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!وہ دوشیزہ فضائیں جنتوں کا ہے گماں جن پر

چھڑکتا ہے مئے تسنیم و کوثر آسماں جن پرلٹاتی ہے سحاب حسن و طلعت کہکشاں جن پر

سرور و نور و نکہت بستے ہیں جن کے ستاروں میںمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!

جہاں شام و سحر نیلی گھٹائیں گھر کے آتی ہیں!افق کی گود میں نیلم کی پریاں مسکراتی ہیں!

فضاؤں میں بہاریں ہی بہاریں لہلہاتی ہیںجہاں فطرت مچلتی ہے لہکتے ابر پاروں میں!

مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!جہاں چاروں طرف باغ و گلستاں لہلہاتے ہیں

شگفتہ وادیوں میں جنتوں کے خواب آتے ہیںجہاں معصوم طائر عشق کے نغمے سناتے ہیں

اور ان کا لحن شیریں گونجتا ہے کوہساروں میں!مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!

حکومت ہے جہاں صدق و صفا و مہر و الفت کینشاط و عیش و عشرت کی سرور و لطف و راحت کی

نسیم و انجم و گل کی نوا و نور و نکہت کی!محبت موجزن ہے جن کے دوشیزہ نظاروں میں

مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!جہاں آباد یہ ناپاک شہرستاں نہیں ہوتے

فسادی فتنہ پرور اور ذلیل انساں نہیں ہوتےیہ انساں ہاں یہ حیواں بد تر از شیطاں نہیں ہوتے

فساد و شر جہاں سوتے ہیں خوابوں کے مزاروں میں!مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!

بہشتوں کی لطافت ہے جہاں کی زندگانی میںمزہ آتا ہے کوثر کا جہاں کے سادہ پانی میں

خدائی حسن عریاں ہے جہاں کی نوجوانی میں!صداقت کروٹیں لیتی ہے ساز دل کے تاروں میں

مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!''حیات دائمی'' لکھا ہوا ہے جن کے ایواں پر

ارم زار ابد ہے سایہ زن جن کے خیاباں پردوامیت کے جلوے چھا رہے ہیں باغ و بستاں پر

گزر ممکن نہیں ہے موت کا جن کے نظاروں میںمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں

محبت میں جو ہو جاتا ہے پائندہ نہیں مرتا!صداقت جس کو کر دیتی ہے تابندہ نہیں مرتا!

ہے جس میں عشق رقصاں وہ دل زندہ نہیں مرتا!نوائے ''لا فنا'' ہے روح کے خاموش تاروں میں

مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!

— اختر شیرانی