31 اشعار

بستی کی لڑکیوں کے نام

Basti ki Larkiyon ke Naam

بستی کی لڑکیوں کے نام

«بستی کی لڑکیوں کے نام» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرامیرا پیام لے جا سوئے بتان صحرا

صحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنابھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحرا

گر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیںتم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحرا

تم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراںاللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحرا

تم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہوہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحرا

ہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کریہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان‌ صحرا

بیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سےکیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحرا

تم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہوبرباد کر رہی ہو اے گلرخان‌ صحرا

یہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگرغمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان‌ صحرا

یہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیںبچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحرا

شہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیںصحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرا

یاد‌ سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاںڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحرا

آبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیںآ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحرا

صحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانااو دختران صحرا او آہوان صحرا

اے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنامل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرا

دشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقیہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحرا

آنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرااو داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرا

مستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحراہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرا

دیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیںدل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرا

نظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظرصحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحرا

وہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالموہ نور کا سمندر ریگ روان صحرا

جلوے مہ‌ جواں کے وہ رنگ کارواں کےوہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحرا

کیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیںوہ آسمان صحرا ماہ روان صحرا

وہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانےبے فکری کے فسانے ورد زبان صحرا

کھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھےمستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحرا

وہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیںوہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحرا

پھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیںمجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحرا

راتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلاناہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحرا

وہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریںبے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحرا

وہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمےگاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرا

اک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خوداخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں