9 اشعار

گجرات کی رات

Gujarat Ki Raat

گجرات کی رات

«گجرات کی رات» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

آج قسمت سے نظر آئی ہے برسات کی راتکیا بگڑ جائے گا رہ جاؤ یہیں رات کی رات

ان کی پا بوسی کو جائے تو صبا کہہ دیناآج تک یاد ہے وہ آپ کے گجرات کی رات

جس میں سلمیٰ کے تصور کے ہیں تارے روشنمیری آنکھوں ہے وہ عالم جذبات کی رات

ہائے وہ مست گھٹا ہائے وہ سلمیٰ کی اداآہ وہ رود چناب آہ وہ گجرات کی رات

میرے سینے میں ادھر زلف معطر کا ہجومآہ وہ زلف کہ آوارہ خرابات کی رات

سطح دویا پہ ادھر نشہ میں لہرائی ہوئیرنگ لائی ہوئی چھائی ہوئی برسات کی رات

اف وہ سوئی ہوئی کھوئی ہوئی فطرت کی بہاراف وہ مہکی ہوئی بہکی ہوئی برسات کی رات

پھر وہ ارمان ہم آغوشی کا جذب گستاخآہ وہ رات وہ سلمیٰ سے ملاقات کی رات

کیوں نہ ان دونوں پہ مٹنے کی ہو حسرت اختراف وہ اس رات کی بات آہ وہ اس بات کی رات

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں