8 اشعار

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

Gulzar-e-jahan mein gul ki tarah go shad hain hum shadab hain hum

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

«گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہمکہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہم

کس ماہ لقا کے عشق میں یوں بے چین ہیں ہم بیتاب ہیں ہمکرنوں کی طرح آوارہ ہیں ہم تاروں کی طرح بے خواب ہیں ہم

مٹ جانے پہ بھی مسرور ہیں ہم مرجھانے پہ بھی شاداب ہیں ہمشہبائے شباب و عشق کا اک بھولا ہوا رنگیں خواب ہیں ہم

فطرت کے جمال رنگیں سے ہم نے بھی اٹھائے ہیں پردےبربط ہے اگر فردوس جہاں تو اس کے لئے مضراب ہیں ہم

خوش وقتی ہے وجہ رنج و الم گلزار جہاں میں اے ہمدمطائر نہ پکاریں شاد ہیں ہم غنچے نہ کہیں شاداب ہیں ہم

ملنے پہ گر آئیں کوئی مکاں خالی نہیں اپنے جلووں سےاور گوشہ نشیں ہو جائیں اگر کم یاب نہیں نایاب ہیں ہم

دو دن کے لئے ہم آئے ہیں اک شب کی جوانی لائے ہیںفردوس سرائے ہستی میں ہم رنگ گل مہتاب ہیں ہم

رسوائی شعر و عشق نے وہ رتبہ ہمیں اخترؔ بخشا ہےفخر دکن و بنگال ہیں ہم ناز اودھ و پنجاب ہیں ہم

— اختر شیرانی