11 اشعار

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

Dil-e-shikasta harif-e-shabaab ho nah saka

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

«دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکایہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا

کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہمکہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا

نظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخیہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا

نگاہ فیض سے محروم برتری معلومستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا

ہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسییہ سیل نور ستم ہے شراب ہو نہ سکا

یہ مے چھلک کے بھی اس حسن کو پہنچ نہ سکییہ پھول گھل کے بھی اس کا شباب ہو نہ سکا

کسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کومیں ناتواں تو حریف خطاب ہو نہ سکا

ہوں تیرے وصل سے مایوس اس قدر گویاکبھی جہاں میں کوئی کامیاب ہو نہ سکا

وہ پوچھتے ہیں ترے دل کی آرزو کیا ہےیہ خواب ہائے کبھی میرا خواب ہو نہ سکا

تلاش معنیٔ ہستی میں فلسفہ نہ خردیہ راز آج تلک بے حجاب ہو نہ سکا

شراب عشق میں ایسی کشش سی تھی اخترؔکہ لاکھ ضبط کیا اجتناب ہو نہ سکا

— اختر شیرانی