24 اشعار

ایک حسن فروش سے

Ek Husn Farosh Se

ایک حسن فروش سے

«ایک حسن فروش سے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہےتری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہے

ترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہےترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہے

مہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہےگل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہے

تو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیںمحبت اور محبت کی لطافت کس کو کہتے ہیں

غم ہجراں ہے کیا اور سوز الفت کس کو کہتے ہیںجنوں ہوتا ہے کیسا اور وحشت کس کو کہتے ہیں

تو کیا جانے غم شب ہائے فرقت کس کو کہتے ہیںترے اظہار الفت کی فصاحت رات بھر کی ہے

نگاہ مست سے دل کو مرے تڑپا رہی ہے توادائے شوق سے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تو

مجھے بچے کی صورت ناز سے پھسلا رہی ہے توکھلونے دے کے بوسوں کے مجھے بہلا رہی ہے تو

مگر نادان ہے تو آہ دھوکا کھا رہی ہے توترا روئے درخشاں ہے بظاہر ماہتاب آسا

ترے ہونٹوں کی شادابی ہے رنگت میں شراب آساترے رخسار کی مہتابیاں ہیں آفتاب آسا

مگر ان کی حقیقت ہے حباب آسا سراب آساکہ غازے کی صباحت اس پہ چھائی ہے نقاب آسا

اور اس غازے کی بھی جھوٹی صباحت رات بھر کی ہےیہ مانا تیری خلوت کی فضا روح گلستاں ہے

تری خلوت کا ہر فانوس اک مہتاب لرزاں ہےترا ابریشمی بستر نہیں اک خواب خنداں ہے

ترا جسم آفت دل تیرا سینہ آفت جاں ہےتو اک زندہ ستارہ ہے جو تنہائی میں تاباں ہے

مگر کہتے ہیں تاروں کی حکومت رات بھر کی ہےلطافت سے ہیں خالی تیرے کمھلائے ہوئے بوسے

طراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسےنزاکت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسے

حقیقت سے ہیں خالی تیرے شرمائے ہوئے بوسےمحبت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسے

اور ان بوسوں کی یہ جھوٹی حلاوت رات بھر کی ہےترے زہریلے بوسے مجھ کو جس دم یاد آئیں گے

مرے ہونٹوں پہ کالے ناگ بن کر تھرتھرائیں گےپشیمانی کے جذبے مجھ کو دیوانہ بنائیں گے

مرے انکار کو نفرت کے خنجر گدگدائیں گےمرے دل کی رگوں میں غم کے شعلے تیر جائیں گے

میں سمجھا! آہ سمجھا! یہ مسرت رات بھر کی ہےمجھے دیوانہ کرنے کی مسرت بے خبر کب تک

رہے گی میرے دل میں تیری الفت کارگر کب تکمجھے مسحور رکھے گا یہ عشق بے ثمر کب تک

حقیقت کی سحر آخر نہ ہوگی پردہ در کب تکمجھے مغلوب کر کے خوش ہے تو ظالم مگر کب تک

تری یہ فتح میری یہ ہزیمت رات بھر کی ہے

— اختر شیرانی