14 اشعار

ایک لڑکی کا گیت

Ek Ladki Ka Geet

ایک لڑکی کا گیت

«ایک لڑکی کا گیت» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

جہاں چڑیاں گھنیری جھاڑیوں میں چہچہاتی ہوںجہاں شاخوں پہ کلیاں نت نئی خوشبو لٹاتی ہوں

اور ان پر کوئلیں کو کو کے میٹھے گیت گاتی ہوںوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

جہاں برسات کے موسم میں سبزہ لہلہاتا ہوہوا کی چھیڑ سے ایک ایک پتا تھرتھراتا ہو

جہاں چشموں کا پانی نرم لے میں گنگناتا ہووہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

جہاں اونچے پہاڑوں پر گھٹائیں گھر کے آتی ہوںہوا کی گود میں نیلم کی پریاں مسکراتی ہوں

اور اپنے نیلگوں ہونٹوں سے موتی میں لٹاتی ہوںوہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

جہاں نہروں میں بہتا پانی موتی سا چھلکتا ہوجہاں چاروں طرف گلزار میں سبزہ لہکتا ہو

جہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

جہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہوجہاں باغوں میں اور کھیتوں میں ہر یا دل لہکتا ہو

جہاں ٹیسو کے اک اک پھول میں شعلہ دہکتا ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

جہاں آموں کے ہوں باغ اور کوئی رکھوالا نہ ہو ہرگزکوئی کتا بھی مالی نے جہاں پالا نہ ہو ہرگز

اور اماں جی سا کوئی دیکھنے والا نہ ہو ہرگزوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

الٰہی میرے دل کی آرزو جلدی سے پوری ہووہاں لے چل جہاں اس فصل میں جانا ضروری ہو

مری ہو شملہ ہو سولن ہو دلہوزی مسوری ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو

— اختر شیرانی