29 اشعار

ایک شاعرہ کی شادی پر

Ek Sha'ira ki Shadi Par

ایک شاعرہ کی شادی پر

«ایک شاعرہ کی شادی پر» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

اے کہ تھا انس تجھے عشق کے افسانوں سےزندگانی تری آباد تھی رومانوں سے

شعر کی گود میں پلتی تھی جوانی تیریتیرے شعروں سے ابلتی تھی جوانی تیری

رشک فردوس تھا ہر حسن بھرا خواب تراایک پامال کھلونا تھا یہ مہتاب ترا

نکہت شعر سے مہکی ہوئی رہتی تھی سدانشۂ فکر میں بہکی ہوئی رہتی تھی سدا

شرکت غیر سے بیگانہ تھے نغمے تیرےعصمت حور کا افسانہ تھے نغمے تیرے

شعر کی خلوت رنگیں تھی پری خانہ ترامست خوابوں کے جزیروں میں تھا کاشانہ ترا

غائب از چشم تھی جنت کی بہاروں کی طرحدست انساں سے تھی محفوظ ستاروں کی طرح

صحبت غیر سے گھبراتی تھی تنہائی تریآئینے سے بھی تو شرماتی تھی تنہائی تری

صبح کی طرح سے دوشیزہ تھی ہستی تیریبوئے گل کی طرح پاکیزہ تھی ہستی تیری

نغمہ و شعر کے فردوس میں تو رہتی تھییکسر الہام و ترنم تھا جو تو کہتی تھی

تیرے اشعار تھے جنت کی بہاروں کے ہجومتیرے افکار تھے زرین ستاروں کے ہجوم

درد شعری کے تأثر سے تو مغموم تھی توآسماں کا مگر اک غنچۂ معصوم تھی تو

موج کوثر کا چھلکتا ہوا پیمانہ تھیغیر ہونٹوں کے تصور سے بھی بیگانہ تھی

اب گوارا ہوئی کیوں غیر کی صحبت تجھ کوکیوں پسند آ گئی نا جنس کی شرکت تجھ کو

اوج تقدیس کو پستی کی ادا بھا گئی کیوںتیری تنہائی کی جنت پہ خزاں چھا گئی کیوں

شعر و رومان کے وہ خواب کہاں ہیں تیرےوہ نقوش گل و مہتاب کہاں ہیں تیرے

کون سی طرفہ ادا بھا گئی اس دنیا میںخلد کو چھوڑ کے کیوں آ گئی اس دنیا میں

ہو گئی عام تو نور مہ تاباں کی طرحآہ کیوں جل نہ بجھی شمع شبستاں کی طرح

اپنی دوشیزہ بہاروں کو نہ کھونا تھا کبھیوہ کلی تھی تو جسے پھول نہ ہونا تھا کبھی

عفتیں مٹ کے جوانی کو مٹا جاتی ہیںپھول کمھلاتے ہیں کلیاں کہیں کمھلاتی ہیں

بلبل مست نوا دشت میں کیوں رہنے لگینغمۂ تر کی جگہ مرثیہ کیوں کہنے لگی

ہوس آلودہ ہوئی پاک جوانی تیریغیر کی رات ہے اب اور کہانی تیری

کس کو معلوم تھا تو اس قدر ارزاں ہوگیزینت محفل و پامال شبستاں ہوگی

جذب عفت کا میسر تھا جو عرفاں تجھ کوکیوں نہ مرغوب ہوا شیوۂ جاناں تجھ کو

تیرگی حرص کی حوروں کو بھی بہکا ہی گئیتیرے بستر پہ بھی آخر کو شکن آ ہی گئی

اب نہیں تجھ میں وہ حوروں کی سی عفت باقیحور تھی تجھ میں، گئی، رہ گئی عورت باقی

ہاں وہ عورت جسے بچوں کا فسانہ کہئےبربط نفس کا اک فحش ترانہ کہئے

جس میں ہے زہر عفونت کا وہ پیمانہ کہیںاک گناہوں کا بھبھکتا ہوا مے خانہ کہیں

نوحہ خواں اپنی جواں موت کا ہونے دے مجھےمسکرا تو مگر اس حال پہ رونے دے مجھے

— اختر شیرانی