7 اشعار

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی

Gham-e-zamana nahin ek azaab hai saqi

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی

«غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقیشراب لا مری حالت خراب ہے ساقی

شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقیشراب لا مجھے پاس شباب ہے ساقی

اٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگیوہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی

نکال پردۂ مینا سے دختر رز کوگھٹا میں کس لئے یہ ماہتاب ہے ساقی

تو واعظوں کی نہ سن میکشوں کی خدمت کرگنہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی

زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غراکہ ایک جام میں سب کا جواب ہے ساقی

کلام جس کا ہے معراج حافظؔ و خیامؔیہی وہ اخترؔ خانہ خراب ہے ساقی

— اختر شیرانی