7 اشعار

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی

Nah woh khizaan rahi baaqi nah woh bahaar rahi

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی

«نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہیرہی تو میری کہانی ہی یادگار رہی

وہی نظر ہے نظر جو بایں ہمہ پستیستارہ گیر رہی کہکشاں شکار رہی

شب بہار میں تاروں سے کھیلنے والےکسی کی آنکھ بھی شب بھر ستارہ بار رہی

تمام عمر رہا گرچہ میں تہی پہلوبسی ہوئی مرے پہلو میں بوئے یار رہی

کوئی عزیز نہ ٹھہرا ہمارے دفن کے بعدرہی جو پاس تو شمع سر مزار رہی

وہ پھول ہوں جو کھلا ہو خزاں کے موسم میںتمام عمر مجھے حسرت بہار رہی

کبھی نہ بھولیں گی اس شب کی لذتیں اخترؔکہ میرے سینے پہ وہ زلف مشکبار رہی

— اختر شیرانی