13 اشعار

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور

Gham-khana-e-hasti mein hai mehman koi din aur

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور

«غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اورکر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور

مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گیجی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور

تربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرتحیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور

یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایتتقدیر میں ہے حسرت و حرماں کوئی دن اور

پامال خزاں ہونے کو ہیں مست بہاریںہے سیر گل و حسن‌ گلستاں کوئی دن اور

ہم سا نہ ملے گا کوئی غم دوست جہاں میںتڑپا لے غم گردش دوراں کوئی دن اور

قبروں کی جو راتیں ہیں وہ قبروں میں کٹیں گیآباد ہیں یہ زندہ شبستاں کوئی دن اور

رنگینی و نزہت پہ نہ مغرور ہو بلبلہے رنگ بہار چمنستاں کوئی دن اور

آخر کو وہی ہم وہی ظلمات شب غمہے نور رخ ماہ درخشاں کوئی دن اور

آزاد ہوں عالم سے تو آزاد ہوں غم سےدنیا ہے ہمارے لیے زنداں کوئی دن اور

ہستی کبھی قدرت کا اک احسان تھی ہم پراب ہم پہ ہے قدرت کا یہ احساں کوئی دن اور

لعنت تھی گناہوں کی ندامت مرے حق میںہے شکر کہ اس سے ہیں پشیماں کوئی دن اور

شیون کو کوئی خلد بریں میں یہ خبر دےدنیا میں اب اخترؔ بھی ہے مہماں کوئی دن اور

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں