18 اشعار

سورج کی کرنوں کا گیت

Suraj Ki Kirnon Ka Geet

سورج کی کرنوں کا گیت

«سورج کی کرنوں کا گیت» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

سنہری سورج نے آسماں پرکہا کہ کیا بھیجوں میں زمیں کو

یہ راگ تھا کرنوں کی زباں پرزمیں پہ جانے دو تم ہمیں کو

ترس گیا دھوپ کو زمانہہیں کب سے چھائی ہوئی گھٹائیں

جو آج کر دو ہمیں روانہزمین پر نور جا بچھائیں

گھٹا کے پردوں کو چاک کر دیںزمین پر روشنی لٹائیں

چمن کو کیچڑ سے پاک کر دیںدرختوں سے کھیلیں اور کھلائیں

یہ گیت گاتی ہوئی جہاں میںچھما چھم آئیں سنہری کرنیں

ہر ایک گھر میں ہر اک مکاں میںمچل کے چھائیں سنہری کرنیں

جو بچے اس وقت سو رہے ہیںیہ ان کے بستر پہ جھومتی ہیں

وہ چپ ہیں بے ہوش ہو رہے ہیںیہ ان کی آنکھوں کو چومتی ہیں

یہ ان کے گالوں پہ گرتی ہیںتو گال ہو جاتے ہیں سنہری

یہ ان کے بالوں پہ گرتی ہیں جبتو بال ہو جاتے ہیں سنہری

رسیلی لے میں سنا رہی ہیںکہ اٹھو جاگ اٹھو پیارے بچو

ہوائیں بھی گیت گا رہی ہیںکہ آؤ اب کھیلو پیارے بچو

بس اٹھ کھڑے ہو ہماری خاطریہ سوچو آئے ہیں ہم کہاں سے

اور اس پہ دیکھو تمہاری خاطریہ تحفہ لائے ہیں آسماں سے

یہ تحفہ تم جانتے ہو کیا ہےسنہری سورج کی روشنی ہے

وہ دیکھو سورج چمک رہا ہےشفق کی وادی لہک رہی ہے

— اختر شیرانی