9 اشعار

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی

Is mah-jabeen se aaj mulaqaat ho gayi

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی

«اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئیبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئی

آوارگان عشق کا مسکن نہ پوچھئےپڑ رہتے ہیں وہیں پہ جہاں رات ہو گئی

ذکر شب وصال ہو کیا قصہ مختصرجس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ بات ہو گئی

مسجد کو ہم چلے گئے مستی میں بھول کرہم سے خطا یہ پیر خرابات ہو گئی

پچھلے غموں کا ذکر ہی کیا جب وہ مل گئےاے آسماں تلافئ مافات ہو گئی

زاہد کو زندگی ہی میں کوثر چکھا دیارندوں سے آج یہ بھی کرامات ہو گئی

بے چین رکھنے والے پریشاں ہوں خود نہ کیوںآخر کو تیری زلف مری رات ہو گئی

جھولا جھلائیں چل کے حسینوں کو باغ میںگجرات میں سنا ہے کہ برسات ہو گئی

کیا فائدہ اب اخترؔ اگر پارسا بنےجب ساری عمر نذر خرابات ہو گئی

— اختر شیرانی