16 اشعار

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

Nukhat-e-zulf se neendon ko basa de aa kar

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

«نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کرمیری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر

فکر فردا و غم دوش بھلا دے آ کرپھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر

عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کردل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر

کس قدر تیرہ و تاریک ہے دنیائے حیاتجلوۂ حسن سے اک شمع جلا دے آ کر

عشق کی چاندنی راتیں مجھے یاد آتی ہیںعمر رفتہ کو مری مجھ سے ملا دے آ کر

زندگی بن کے مرے دل میں سما جا سلمیٰموت اک پردہ ہے یہ پردہ اٹھا دے آ کر

آگ سی دل میں لگا جاتا ہے تیرا ہر خطآ مرے خرمن ہستی کو جلا دے آ کر

تیری فرقت میں مرے شعر ہیں کتنے غمگیںمسکراتی ہوئی نظروں سے ہنسا دے آ کر

پھر وہی ہم ہوں وہی دن ہوں وہی راتیں ہوںعہد رفتہ کو پھر آئینہ دکھا دے آ کر

شوق نادیدہ میں لذت ہے مگر ناز نہیںآ مرے عشق کو مغرور بنا دے آ کر

شب فرقت پہ مری ہنستے ہیں اے خندۂ نورمیرے قدموں پہ ستاروں کو گرا دے آ کر

تشنۂ حسن ہوں اے ساقی مے خانۂ حسناپنے ہونٹوں سے پھر اک جام پلا دے آ کر

کب تلک رونق شام اودھ اے ماہ رواںشام لاہور کو بھی صبح بنا دے آ کر

ہو چکی سیر بہاراں کدۂ قیصر باغباغ لارنس میں بھی پھول کھلا دے آ کر

گومتی دیکھ چکی جلوۂ عارض کی بہارسطح راوی کو بھی آئینہ بنا دے آ کر

تیرا رومان نیا خواب ہے اخترؔ کے لیےآ اور اس خواب کی تعبیر بتا دے آ کر

— اختر شیرانی