4 اشعار

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی

Yun to kis phool se rangat na gayi boo na gayi

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی

«یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئیاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی

مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگرآج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی

کب بہاروں پہ ترے رنگ کا سایہ نہ پڑاکب ترے گیسوؤں کو باد سحر چھو نہ گئی

ترے گیسوئے معنبر کو کبھی چھیڑا تھامیرے ہاتھوں سے ابھی تک تری خوشبو نہ گئی

— اختر شیرانی