9 اشعار

جھولا

Jhoola

جھولا

«جھولا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

آیا ساون کا مہینہ نظر آیا جھولادل کو بھایا مری آنکھوں میں سمایا جھولا

سال بھر رہ کے بہشتوں کی فضا میں مہماںابر کی گود میں بیٹھا ہوا آیا جھولا

چولی دامن کا سا ہے ساتھ گھٹا کا اس کااس طرف آئی گھٹا اس طرف آیا جھولا

رت ہے جھولے کی نہ کیوں آج خدائی جھولےننھی کلیوں کو ہواؤں نے جھلایا جھولا

پینگ بڑھنے لگی آنچل کو گھٹا کے چھونےباغ میں سکھیوں نے اس طرح جھلایا جھولا

جھومتی آتی ہیں مستانہ گھٹائیں کیسیڈھونڈ کر ہے انہیں کس دیس سے لایا جھولا

گیت سن سن کے گھٹائیں بھی بہک اٹھی ہیںمل کے سکھیوں نے کچھ اس دھوم سے گایا جھولا

پھول ہلتے ہیں ادھر شاخ لچکتی ہے ادھریا بہاروں کو ہے قدرت نے جھلایا جھولا

دور پردیس میں ہم کس کو جھلائیں اخترؔحسرت و یاس کا پیغام ہے لایا جھولا

— اختر شیرانی