8 اشعار

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

Jhoom kar badli uThi aur chhaa gayi

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

«جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئیساری دنیا پر جوانی آ گئی

آہ وہ اس کی نگاہ مے فروشجب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی

گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیںابر میں بجلی سی اک لہرا گئی

عالم مستی کی توبہ الاماںپارسائی نشہ بن کر چھا گئی

آہ اس کی بے نیازی کی نظرآرزو کیا پھول سی کمھلا گئی

ساز دل کو گدگدایا عشق نےموت کو لے کر جوانی آ گئی

پارسائی کی جوانمرگی نہ پوچھتوبہ کرنی تھی کہ بدلی چھا گئی

اخترؔ اس جان تمنا کی اداجب کبھی یاد آ گئی تڑپا گئی

— اختر شیرانی