9 اشعار

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

Yaad aao mujhe lillah na tum yaad karo

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

«یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرواپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کرو

شرم رونے بھی نہ دے بیکلی سونے بھی نہ دےاس طرح تو مری راتوں کو نہ برباد کرو

حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہےاس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو

یاد آتے ہو بہت دل سے بھلانے والوتم ہمیں یاد کرو تم ہمیں کیوں یاد کرو

آسماں رتبہ محل اپنے بنانے والودل کا اجڑا ہوا گھر بھی کوئی آباد کرو

ہم کبھی آئیں ترے گھر مگر آئیں گے ضرورتم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہیں یاد کرو

چاندنی رات میں گل گشت کو جب جاتے تھےآہ عذرا کبھی اس وقت کو بھی یاد کرو

میں بھی شائستۂ الطاف ستم ہوں شایدمیرے ہوتے ہوئے کیوں غیر پہ بیداد کرو

صدقے اس شوخ کے اخترؔ یہ لکھا ہے جس نےعشق میں اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

— اختر شیرانی