4 اشعار

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

Khayalistan-e-hasti mein agar gham hai khushi bhi hai

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

«خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہےکبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے

انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گااندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کیہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے

یہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے پر نہیں ہوتاہمارے جام ہستی میں سرشک بے خودی بھی ہے

— اختر شیرانی